Aside


 

 
"اچھے اخلاق اپنائیے”
 
 
ایک برائی جو فیس بک اور انٹر نیٹ پر بہت نظر آ رہی ہے کہ ذرا سی بات خلافِ مزاج کردی اگر آپ نے، کسی پوسٹ میں تو کمنٹ میں جو آپ کا شجرہ نسب ادھیڑا جائیگا
تو الامان والحفیظ اور ماں بہن کی گالیاں تحفۃً دی جائینگی ، کفر کے فتوے تک لگ جائینگے۔
 
ارے بھائی دنیا میں ہر جگہ آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو آپ سے نظریاتی یا فکری یا مذہبی اختلاف رکھتے ہونگے!
کیا آپ صرف ان کو اس بات پر گالیاں دینگے کہ وہ آپ سے اختلاف رکھتے ہیں؟
تو پھر گالیوں کے مستحق تو آپ بھی ہوئے نا کیونکہ آپ بھی تو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔
 
دیکھیں جی!! آپ سے کوئی اختلاف کرے تو گالی نہ دیں، اپنے موقف پر اگر کوئی دلیل ہے تو دیں
نہیں ہے تو سوچیں کہ کہیں آپ کا موقف غلط تو نہیں؟
علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھیں۔
ویسے بھی گالی وہ دیتا ہے جسے پاس دلیل نہیں ہوتی، جو ہٹ دھرم ہوتا ہے۔
بے جا اور فضول بحثوں میں وقت ضائع نہ کریں۔
سی این جی کی لائن میں ضائع ہونے والا وقت ہی کافی ہے۔
لوگوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کریں۔
ٹوٹے ہوئے ہم پہلے ہی بہت ہیں۔
 
گالی تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کافر کو نہیں دی تو مسلمان بھائی کو دینا تو بعید ہے۔
 
دنیا کا سب سے سرکش آدمی فرعون جس نے خدائی تک کا دعوی کردیا تھا، اس کے پاس جب وقت کے سب سے برگزیدہ بندے حضرت موسی و ہارون علیھما السلام کو بھیجا جاتا ہے تو اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں:
اے موسی و ھارون جاؤ! فرعون کے پاس، کہ بلاشبہ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے اور اس سے کہو نرم بات، شاید کہ نصیحت پکڑے اور ڈرے۔
(سورہ طہ 44)
 
ہمارے استاد محترم فرماتے تھے کہ تم موسی و ہارون علیھما السلام سے بڑے مبلغ نہیں ہو اور نہ ہی تمہارا مخاطب فرعون سے بڑا سرکش ہے۔ تو تمہارے لیئے تو لہجے میں نرمی واجب تر ہے۔
 
صحت بخش اور معلوماتی ابحاث سے اسلام نہیں روکتا:
قرآن میں ہے:
اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دو حکمت اور اچھے طور پر وعظ کے ساتھ، اور (اگر بحث کی نوبت آئے، سوال جواب کا تبادلہ ہو یا کسی اعتراض کا جواب دینا مقصود ہو تو سختی اور تند خوئی کے بجائے) ان سے بحث بھی احسن طریقے سے کرو۔
(سورۃ النحل آیۃ 125)
 
فضول بحثوں سے پرہیز کرکے اپنے اوقات کو قیمتی بنائیں
مختلف الذہن لوگوں کو ذاتی طور پر نشانہ نہ بنائیں۔
مضحکہ خیز کارٹون وغیرہ بنانے پر کچھ بعید نہیں کہ رب کی پکڑ ہوجائے۔
 
بات کو تولو پھر بولو کیونکہ یہی بات آپ کے اخلاقی کردار کا مقام تعین کرے گی !!!
— 

 

 

Aside


غیر مسلم مشاہیر کے خیالات

مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب The Hundred میں دنیا کے ان سو عظیم ترین آدمیوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے دنیا کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے پہلے شمار پر رکھا ہے۔ مصنف ایک عیسائی ہوکر بھی اپنے دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پورے نسل انسانی میں سیّدالبشرکہنے کے لائق ہیں۔[22] تھامس کارلائیل نے 1840ء کے مشہور دروس (لیکچرز) میں کہا کہ ”میں محمد سے محبت کرتاہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان کی طبیعت میں نام ونمود اور ریا کا شائبہ تک نہ تھا ۔ ہم انہی صفات کے بدلے میں آپ کی خدمت میں ہدیہً اخلاص پیش کرتے ہیں “۔ فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کہتاہے ” محمد دراصل سروراعظم تھے ۔15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاﺅں کی پرستش سے توبہ کرڈالی۔ مٹی کی بنی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں ۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرت کی تعلیم کا “۔ جارج برناڈشا لکھتا ہے ” موجودہ انسانی مصائب سے نجات ملنے کی واحد صورت یہی ہے کہ محمد اس دنیا کے رہنما بنیں “۔ گاندھی لکھتا ہے کہ ” بانی اسلام نے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی جس نے انسان کو سچائی کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی ۔ میں اسلام کا جتنا مطالعہ کرتاہوں اتنا مجھے یقین راسخ ہوجاتاہے کہ یہ مذہب تلوار سے نہیں پھیلا “۔ جرمنی کا مشہور ادیب شاعر اور ڈرامہ نگار ”گوئٹے “ حضور کا مداح اور عاشق تھا ۔اپنی تخلیق ”دیوانِ مغربی“میں گوئٹے نے حضور اقدس کی بارگاہ میں جگہ جگہ عشق محمد کا اظہار کیا ہے اور ان کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں ۔ فرانس کے محقق ڈی لمرٹائن نے اپنی کتاب ”تاریخِ ترکی“ میں انسانی عظمت کے لئے جو معیار قائم کیا اس ضمن میں فاضل تاریخ دان لکھتاہے ” اگر انسانی عظمت کو ناپنے کے لئے تین شرائط اہم ہیں جن میں (۱) ۔ مقصد کی بلندی ، (۲) ۔ وسائل کی کمی، (۳)۔حیرت انگیر نتائج ۔ تو اس معیار پر جدید تاریخ کی کو ن سی شخصیت محمد سے ہمسری کا دعویٰ کرسکتی ہے “۔ فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتاہے ” فلسفی ، مبلغ ، پیغمبر ، قانون سا ز ، سپاہ سالار، ذہنو ں کا فاتح ، دانائی کے عقائد برپا کرنے والا ، بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا ۔ بیسیوں ریاستوں کو ایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والا….وہ محمد ہیں ….جہاں تک انسانی عظمت کے معیار کا تعلق ہے ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان معیاروں پر پورا اُترنے والا محمد سے بھی کوئی برتر ہوسکتا ہے “۔؟ ڈاکٹر شیلے پیغمبر آخرالزماں کی ابدیت اور لاثانیت کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” محمد گزشتہ اور موجودہ لوگوں میں سب سے اکمل اور افضل تھے اور آئندہ ان کا مثال پیدا ہونا محال اور قطعاً غیر ممکن ہے“۔Image